| Sr. | English Words | Urdu Words |
| 201 |
THE ALL-PROVIDER [ A L - R A Z Z A Q ] R Noun, Adjective, Name, Holy Quranic
Report Error!
|
ا لرّ زَّ ا قُ ، اللّہ تعالے۱ کا ایک صِفاتی نام ہے جو قُرانِ پاک میں ایک سے زیادہ مرتبہ آیا ہے۔ سُورۃ ا لَذ اَ رِیا ت ، کی اٹھاونویں { ۵۸ } آیت ہے :۔ یہ حق ہے کہ اللّہ تعالے۱ ، رزَّاق ، { مہَیّا کرنے والا } ہے۔: اللّہ تعالے۱ کے اس صِفاتی نام کی ترجمانی کرنے والے دیگر حوالہ جات یہ ہیں:۔ ، فاطر ، کی تیسری، عنکبُوت، کی ساٹھویں، ،ص ، کی چَوّنویں ، ، اَ لحَج ، کی اٹھاونویں، اور ا لَمُنافقُون کی دسویں آیت۔ |
| 202 |
THE HOLY [ AL - Q U D D U S ] R Noun, Adjective, Name, Holy Quranic
Report Error!
|
ا لَقدُ وّس ، یعنی سراسر اور سرا پا پاک اور پوِتّر ہستی۔ خُدا تعالے۱ کا ایک صِفاتی نام ہے۔ سُورۃ ا لَحشر کی ۲۳ ویں آیت ہے کہ: القُدّوسُ ، وُہ سُلطان ، قُدّوُس ہے : درج ذیل آیات بھی اُس ذاتِ مُقدّس کی قُدُوّسیت کی نُمائیندہ ہیں: سُورۃ ا لبقرہ : ۳۰، سُورۃ الزمر : ۶۷ ، سُورۃ فَصلَت : ۲ ۔ |
| 203 |
THE PROTECTOR [ A L - W A A L I ] R Noun, Adjective, Name, Holy Quranic
Report Error!
|
اَ لو ا لِی، { مُحافِظ ، حَفِیظ } قُرانِ پاک میں پایا جانے والا اللّہ تعالے۱ کا ایک صِفاتی نام ہے۔ سُورۃ اَلرعَد کی ۱۱ ویں آیت یُوں ہے :۔ اور سِوائے اُس { اللّہ تعالے۱ } کے اُن کا کوئی حِفاظت کرنے والا نہیں ہے ۔: علاوہ ازیں ، سُورۃ اَلحج کی ۷ ویں ، غافِر کی ۵۱ ویں ، اور سُورۃ مُحمَد ﷺ کی ۱۱ آیت اسی صِفاتی نام کی ترجمانی کرتی ہے۔ نیز ، حدیِثِ نبوی ﷺ { تِرمدھی شریف } میں اس نام کی توضیح موجُود ہے ۔ |
| 204 |
T H E L I G H T [ A L - N O O R ] R Noun, Adjective, Name, Holy Quranic
Report Error!
|
اَ لنُوّ رُ { قُرانِ پاک میں تین مرتبہ سے زیادہ پایا جانے والا اللّہ تعالے۱ کا ایک صِفاتی نام ہے ۔ سُورۃ اَ لنُوّ رُ کی ۳۵ ویں آیت میں یُوں مرقُوم ہے :۔ اللّہ تعالے۱ آسمانوں اور زمین کا نُور ہے ۔: عِلاوہ ازیں ، درج ذیل آیات اسی صِفاتی نام کی مزید ترجمانی کرتی ہیں۔ سُورۃ اَ لتغابن کی ۸ ویں ، نُوح کی ۸ ویں ، اور فاطِر کی ۲۰ ویں آیت۔ نِیز ، احادیِثِ نبوی ﷺ { ا لبُخاری اور صَحیح مُسلم }میں بھی اس نام کا تذکرہ موجُود ہے۔ |
| 205 |
D A V I D [ P B U H ]... HAZRAT DAOOD R Noun, Name, Holy Quranic, Holy Biblical
Report Error!
|
حَضرتِ دائود علیہ الاسلام، کا دورِ نبُوت اور دورِ سلطنت حضرتِ سائول کے بعد کا ہے۔ قُرانِ پاک میں سُورۃ بقرہ ، سُورۃ ،ص اور سُورۃ الانبیاء میں آپکا ذِکر کیا گیا ہے۔ بائبل مُقَدّس میں سیمُوئیل کی دُوسری کتاب میں آپکے دورِ حکُومت کا مُفّصل ذِکر ہے۔ آپ ۱۰۴۰ ق م میں بیت الحم میں یسّی کے ہاں پیدا ہّوئے۔ بیس سال کی عُمر میں ایمان کے بل پر فِلستی پہلوان جُولیت { جالُوت } کو قتل کیا۔ ۱۰۰۳ میں آپکو تُمام اسرائیل کا بادشاہ تسلیم کیا گیا۔ حضرتِ دائود نے صیُّون کے ایک خیمہ میں ، عہد کے صندُوق ، { تابُوتِ سکینہ } کو رکھا اور یُوں یرُوشلیم کو مذہبی مرکز قرار دیا۔ حضرتِ دائود کو خُدا تعالے۱ نے نہایت سُریلی آواز عطا کی تھی ۔ لحنِ دائودی ایک ضرب المثل بن گئی تھی۔ مزامیر کی کتاب کے ۱۵۰ مزامیر میں سے ۷۳ مزامیر { زبُور } آپکی تصنیف ہیں ۔ آخری عُمر میں اپنے بیٹے حضرتِ سُلیمان کو تخت سونپنے کے بعد ۹۳۰ ق م میں وفات پائی۔ |